باز گرد

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - پیچھے کو مڑنے والا، (تشریح) پیچھے کو مڑنے والی شرائین۔ "بازگرد - عصب ہر دو جانب مختلف طرح نکلتا ہے۔"

اشتقاق

فارسی زبان میں متعلق فعل 'باز' اور مصدر گردیدن سے مشتق صیغۂ امر 'گرد' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'باز گرد' مرکب بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩٢١ء میں "پریکٹیکل اناٹمی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پیچھے کو مڑنے والا، (تشریح) پیچھے کو مڑنے والی شرائین۔ "بازگرد - عصب ہر دو جانب مختلف طرح نکلتا ہے۔"